کون کہتا ہے میں اکیلا ہوں
Poet: M,masood By: M,masood, Nottinghamاُن راہوں پر ہمیشہ میں جس کے ساتھ چلتا تھا
آج اُن راہوں پر اپنی تنہائیوں کے ساتھ چلتا ہوں
کون کہتا ہے میں اکیلا ہوں
کیا بتاوں آج اگر وہ میرے پاس نہیں ہے تو کیا ہوا
اُن کی یادوں کے ساتھ جو میں ہمیشہ چلتا ہوں
کون کہتا ہے میں اکیلا ہوں
میں آج بھی اُس کو ڈھُنڈنے ہر رات کو نکلتا ہوں
میں آج بھی اُس کا وہیں پر روز انتظار کرتا ہوں
کون کہتا ہے میں اکیلا ہوں
مگر اُس کے انتظار میں وقت سے باتیں کرتا ہوں
کبھی سنسان گلیوں میں میں جا کر اکثر روتا ہوں
کون کہتا ہے میں اکیلا ہوں
میرے آنسو پونچھتے تھے یہی باتیں سوچتا ہوں
میرے خیالوں میرے دل میرے ہر ایک پَل میں وہ ہے
کون کہتا ہے میں اکیلا ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






