کچھ میری اناؤں کی نظر میں
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadکچھ میری اناؤں کی نظر میں کچھہ اپنے جذبات سنبھال کے۔
چلیں یوں ہی ہم عمر بھر ، لاؤ کوئی ایسی راہ نکال کے۔
تیرا ضبط تو اک پہاڑ تھا سو جانِ جاں اسے کیا ہوا
کیوں ریزہ ریزہ وہ ہوا ، اک لفظ کے بھونچال سے۔
یوں تو زندگی کے یر موڑ ہر ہے حادثوں کا سامنا
مگر کٹ جائے گا یہ سفر چلیں ہاتھ جو ہاتھوں میں ڈال کے۔
میرے راستوں کی گرد ابھی میری پلکوں پہ ہے جمی ہوئی
میری طلب بھی ہے وہی ابھی جو تھی پچھلے ماہُ سال سے۔
عثمان کل شب میرے خواب میں پھر آئی تھیں تنہائیاں
میری روح تک کانپ اٹھی تیرے بچھڑنے کے خیال سے
چلیں یوں ہی ہم عمر بھر ، لاؤ کوئی ایسی راہ نکال کے۔
تیرا ضبط تو اک پہاڑ تھا سو جانِ جاں اسے کیا ہوا
کیوں ریزہ ریزہ وہ ہوا ، اک لفظ کے بھونچال سے۔
یوں تو زندگی کے یر موڑ ہر ہے حادثوں کا سامنا
مگر کٹ جائے گا یہ سفر چلیں ہاتھ جو ہاتھوں میں ڈال کے۔
میرے راستوں کی گرد ابھی میری پلکوں پہ ہے جمی ہوئی
میری طلب بھی ہے وہی ابھی جو تھی پچھلے ماہُ سال سے۔
عثمان کل شب میرے خواب میں پھر آئی تھیں تنہائیاں
میری روح تک کانپ اٹھی تیرے بچھڑنے کے خیال سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






