کچھ پرانے خط مل گئے تھے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaجنہیں کبھی
پڑھا ہی نا تھا
جنہیں کبھی
دیکھا ہی نا تھا
جو تھے میرے پاس
برسوں سے
مگر مجھے
ان کا علم ہی نا تھا
آج کچھ
پرانے خط مل گئے تھے
جب ُان پے دیکھا تیرا نام
تو خوشی سے
میرے آنسو نکل گئے تھے
ًمیں کیئ دن کے بعد مسکرایا تھا
وہ تیرا نام دیکھ کر
میرا دل پھر سے
کھل کھلایا تھا
جب خط پڑھنے لگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو
نا ُان تحریروں میں محبت تھی
اور نا ہی کوئ پیار تھا
ُان تحریروں سے
صاف جھلک رہا تھا
جیسے ُاسے کسی
اور کا انتظار تھا
میں پھر سے
اک ستارے کی طرح
فلک سے گر گیا
خط پڑھتے پڑھتے ہی
خشبوں کی طرح بکھر گیا
میں دنیا کے سوالوں سے نہیں
بلکہ اپنے سائے سے ہی ڈر گیا تھا
کہ کیا تھے خواب میرے
میں ان ادھورے خوابوں کی
تعبیر سے ڈر گیا تھا
میں ُاس پل نجانے اندر ہی اندر
کتنی بار مر گیا تھا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






