کھوئی کھوئی رہتی ہوں
Poet: Maria Riaz Ghouri By: Maria Ghouri, Haroonabadکھوئی کھوئی
رہتی ہوں
درد دل سہتی ہوں
نا کسی سے
بات کرتی ہوں
نا کسی سے
ملاقات کرتی ہوں
تنہائیاں میں
سہتی ہوں
کھوئی کھوئی
رہتی ہوں
پوچھتے ہیں
لوگ مجھ سے
اچانک یوں خاموش
ہو جانے کا سبب
نا کسی سے کچھ
کہتی ہوں
نا کسی سے کچھ
کہہ پاتی ہوں
کھوئی کھوئی
رہتی ہوں
گذرے وقتوں میں
سلگتی ہوں
جدائی کے
آنسو پیتی ہوں
سوچ کی وادیوں
دور تک نکلتی
ہوں
سوچ کی وادیوں
میں بھی
تم اب نہیں ملتے
تم کیوں نہیں
ملتے
تم تو میرے تھے نا
ہاں تم کبھی میرے تھے
تیری یادوں
کا ساتھ لے کر
تنہائیوں میں
سفر کرتی ہوں
کھوئی کھوئی
رہتی ہوں
درد دل سہتی
ہوں
بہت تیز گذر رہا
ہے وقت
وقت کے ساتھ
اب میں بہتی
ہوں
کھوئی کھوئی
رہتی ہوں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






