کہاں گئی وہ رونقیں سب ، کیوں اب مساجد اداس لگتی ہیں
Poet: ABuAbdul By: Jamshed, Dubaiکہاں گے وہ اس گھر کے مہمان ، جو دوڑے آتے تھے ہر اذان پہ
کہاں گئی وہ رونقیں سب ، کیوں اب مساجد اداس لگتی ہیں
کہاں گے وہ رمضان کے شوقین ، تڑپ تھی جن کو عبادتوں کی
جہاں رگڑ کے تھے ماتھے سجاے، وہ اب مساجد کیوں بیابان لگتی ہیں
وہ جلدی آنا، جگا بنانا، قرآن پڑھنا اور روتے جانا
جہاں پڑھی رات گے تک تراویح، وہ اب مساجد کیوں ویران لگتی ہیں
جہاں پہ کرتے تھے تم افطاری، جہاں پہ بانٹی تھی تم نے دیگیں
کیوں بھول گے تم سمیٹ کر ثواب ، کیوں اب مساجد ادھار لگتی ہیں
ہوتے تھے حیران دیکھ کر غیر مسلم، بنا فرق کے پڑھنا نمازیں وہ ساری
وہ اب پوچھتے ہیں ہم کو بتاؤ ، کیوں اب مساجد ناقابل استعمال لگتی ہیں
وہ سجانا اسکو، اعتکاف کرنا ، پڑھنا حمد اور وہ نعتیں ساری
کہاں گئی وہ تمہاری عجزو انکساری، کیوں اب مساجد گزرگاہ لگتی ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






