کہہ دو کہ یہ سب جھوٹ ہے
Poet: امن وسیم By: امن وسیم, ملتانکہہ دو کہ
یہ سب جھوٹ ہے سب خواب ہے
بھلا یہ کس طرح ممکن
کہ جس سے پیار کرتے ہوں
اسی کو چھوڑ کر جائیں
کہ جس کے بن نہ جیتے ہوں
کوئی لمحہ کوئی بھی پل
اسی سے پھر ہمیشہ کیلیے
منہ موڑ کر جائیں
وہی تو ہے کہ جس نے پیار کا احساس
میرے دل میں جگایا تھا
مجھے جینا سکھایا تھا
اور میرےدل کے کھنڈر کو
اسی نے گھر بنایا تھا
اس نے تو ساتھ رہنے کی
اکٹھے جینے مرنے کی
بہت سی قسمیں کھائی تھیں
وہ کیسے بھول سکتا ہے
ان قسموں کو اور وعدوں کو
بھلا کیسے جلائے گا
وہ اپنے آشیانے کو
میں کیسے مان لوں اس کو
ایسا ہو ہی نہیں سکتا
وہ مجھ کو چھوڑ کر تنہا
اس دنیا سے کبھی بھی جا نہیں سکتا
کہہ دو کہ
یہ سب جھوٹ ہے سب خواب ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






