کہے دیتے ہیں
Poet: Hafeez ur rehman By: hafeez ur rehman, Peshawar بات کہنے کی نہی پھر بھی کہے دیتے ہیں
تم نہیں جانتے آداب کہے دیتے ہیں
محبت جنس نہی نہ کہیں پہ بکتی ہے
مانگنے سے بھی نہی ملتی کہے دیتے ہیں
محبت کرنے کا دعوای تمہیں تو تھا لیکن
پیمانے روز بدلتے تھے کہے دیتے ہیں
خود کو بہلاتے رہے کھیلتے رہے مجھ سے
دل کبھی یوں بھی بہلتا ہے کہے دیتے ہیں
تم کو اندازہ نہیں کتنا مجھے ہے تڑپایا
کبھی نہ کر سکے احساس کہے دیتے ہیں
دل لگی تھا ہم سے تمہارے لئے عشق
ہمیں تو کر گیا برباد کہے دیتے ہیں
ریت رُکتی نہیں ہاتھ کی بند مُٹھی میں
ریت سے کھیلتے رہے یہ کہے دیتے ہیں
لاکھ سمجھایا یہ سب نظر کے دھوکے ہیں
سُنی نہ بات مگر پھر بھی کہے دیتے ہیں
راہ جو تم نے چُنی اُس کا تھا انجام یہی
رہو اب تم بھی اکیلے یہ کہے دیتے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






