کیا ہوا زیست خوشی پا نہ سکی قسمت سے
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore pakistanکیا ہوا زیست خوشی پا نہ سکی قسمت سے
یہ جوانی رہی محروم ہر اک راحت سے
آہ بھرتے ہیں تو تذلیل ہوا کرتی ہے
لب پہ آہوں بھرے اب گیٹ نہ آنے پائیں
غم ذدہ لوگوں سے کرتا ہے بھلا کون وفا
چھوڑ کے رنج و الم شوخ ترانے گائیں
وہ نہیں ملتا جو ہم چاہیں بڑی حسرت سے
کیا ہوا زیست خوشی پا نہ سکی قسمت سے
مصلحت کے بھی تقاضے ہیں مرے پیش نظر
غم چھپا کر مجھے اوروں کے لیے جینا ہے
موت آ جائے تو مٹ جائیں سبھی درد مرے
اپنے گلشن کے لیے زندہ مگر رہنا ہے
میں نے سب پھولوں کو پالا ہے بڑی محنت سے
کیا ہوا زیست خوشی پا نہ سکی قسمت سے
یہ جوانی رہی محروم ہر اک راحت سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







