کیسی ھوا چلی
Poet: sadeed Masood By: sadeed Masood, Auckland Newzealandنہ وہ رت رھی نہ وہ گل رھے نہ ھوا رھی نہ صبا رھی
نہ وہ قمریاں نہ وہ چہچہے نہ وہ بلبلوں کی نوا رھی
وہ جو نور تھا وہ چلا گیا تو چراغ دل کا بجھا گیا
نہ وہ بے کلی میں مزا رھا نہ وہ تیرگی میں ضیا رھی
میری ھر زمیں ھے لہو لہو میرا ھر چمن بھی ھے بے نمو
نہ وہ کونپلیں نہ وہ ٹہنیاں نہ وہ موسموں کی ادا رھی
نہ وہ عشق ھے نہ وہ شوق ھے نہ وہ دار ھے نہ وہ ذوق ھے
نہ وہ سر رھا نہ سزا رھی نہ علم رھا نہ وقا رھی
وھی شھر تھا کہ نہ کچھ رھا اے سدید کیسی ھوا چلی
نہ وہ شھر ھے نہ وہ لوگ ھیں نہ ردا رھی نہ قبا رھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






