کیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئی
Poet: بی ایس جین جوہر By: مصدق رفیق, Karachiکیفیت دل حزیں ہم سے نہیں بیاں ہوئی
لفظ نہ ساتھ دے سکے آنسوؤں سے عیاں ہوئی
شورش واردات قلب شعروں میں ڈھال ڈھال کر
لکھتے رہے تمام عمر ختم نہ داستاں ہوئی
اب نہ وہ دل میں دھڑکنیں اب نہ وہ سوز و ساز ہے
پوچھتے ہیں وفات دل کیسے ہوئی کہاں ہوئی
میری ذرا سی بات پر جانے وہ کیوں خفا ہوئی
کوئی نہ تلخ گفتگو دونوں کے درمیاں ہوئی
گھر تو ہزاروں بن گئے اینٹوں کو جوڑ جوڑ کر
گھر کے مکینوں کی وفا زینت آشیاں ہوئی
صورت تھی وہ کہ برق سی بدلیوں کی تھی اوٹ میں
پردوں سے جھانک جھانک کر پردوں میں ہی نہاں ہوئی
ایک ہی شاخ پر رہے باڑھ میں سانپ اور آدمی
کیسی عجیب دوستی دونوں کے درمیاں ہوئی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






