کیوں موت کے خواب سجا لیے آنکھوں میں
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیوں موت کے خواب سجا لیے آنکھوں میں
ابھی تو زندگی ہم سے ملی بھی نہیں
کیوں ٹوٹ کے چاہا ُاسے اس طرح لکی
کہ چاہیت کو بندگی ملی بھی نہیں
پتھر کے ُبت پے یہ اعتبار کی نشانی ہیں
ریزہ ریزہ ہوئی میری ذات اور پیار کی اک بوند ملی بھی نہیں
کانٹوں میں کیسے بسر کی ہو گئی زندگی ُاس نے
جس بد نصیب کو پھولوں کی اک شام ملی بھی نہیں
ہاں ! ہم نے جینے کے خواب دیکھے تھے لکی
مگر اک مددت سے نیند ہمیں ملی بھی نہیں
میں ُاس پرندے کو کس طرح ُاڑا دوں
پر ہونے کے باوجود آزادی جیسے ملی بھی نہیں
رونقیں میسر ہو گئی تمہیں جاناں
اندھیروں کے بعد روشنی ہمیں ملی بھی نہیں
تیرے اک انکار نے میرا تخت ہی پلٹ دیا
پھر ہمیں ویسی شہنشائی کہیں ملی بھی نہیں
میری روح تجھ میں ہیں پھر تجھ سے گلہ کیا کرتی
بچھڑ کے تجھ سے ہمیں آب حیات کہیں ملی بھی نہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






