کیوں نا آنے والے کل میں ہم اپنے ماضی کو دفن کر دیں
Poet: مرزا عبدالعلیم بیگ By: Mirza Abdul Aleem Baig, Hefei, Anhui, Chinaایک سا مقدر اپنا
ایک سے مسافر ہم
میں تنہا زمیں پر
اور خیالوں میں تم
تمہارا کہنا تھا
مجھے شدت سے چاہتی ہو
تمہاری محبت آخری حدوں تک
فقط میرے نام رہے گی
ارے لڑکی! تم کیا سوچ رہی ہو؟
یہ کس تصور میں کھو گئی ہو؟
تمہاری خوبصورت جبیں پہ
کوئی شکن کیوں اُبھرے؟
میرے سرد کمرے میں
اُداسی ساتھ بیٹھی ہے
نیم وا دریچے سے
ٹھنڈی ہوا آتی ہے
چھو کر جسم کو میرے
تیری یاد دلاتی ہے
نام لے لے کر تیرا
مجھکو بہت ستاتی ہے
گئے دنوں کا خیال لے کر
آنے والے کل کا رنج
میری نظر میں اُبھرتا ہے
آنکھوں میں خوش گمانی لئے
کہیں تیری صدا‘ کہیں تیری مہک
میری جاں! یہ میرے جذبات کی حماقت نہیں
محبت پر تمہاری‘ مجھے ہے یقین
کیوں نا آنے والے کل میں ہم
اپنے ماضی کو دفن کر دیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






