گئے تو ہیں

Poet: رشید حسرتؔ By: Rasheed Hasrat, Quetta

 ہم پر شعور باب اتارے گئے تو ہیں
گیسو غزل کے تھوڑے سنوارے گئے تو ہیں

کھینچا ہے کہکشاؤں نے اپنی طرف ہمیں
لگتے ہیں ہاتھ کتنے ستارے، گئے تو ہیں

جاری تھی جنگ ضد کی خداؤں کے درمیاں
بے وجہ لوگ بیچ میں مارے گئے تو ہیں

سنتے ہیں آج شاہ پہ رغبت عطا کی ہے
ہوتا ہے کیا نصیب، پکارے گئے تو ہیں

دریا سے کتنی پائی ہے دریا دلی کی خُو
کہنے کو بار بار کنارے گئے تو ہیں

لاتا ہے کون دیکھیں ابھی گوہرِ مراد
اک دوڑ ہے کہ سارے کے سارے گئے تو ہیں

دیکھیں رشیدؔ ساتھ نبھاتا ہے کتنا ضبط؟
اپنے خلاف لوگ ابھارے گئے تو ہیں

Rate it:
Views: 0
27 Sep, 2026
More Sad Poetry