گانٹھ رشتوں کی سلجھانے میں لگے ہیں
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK گانٹھ رشتوں کی سلجھانے میں لگے ہیں
روٹھے ہوئوں کو منانے میں لگے ہیں
وقت مختصر ھے اور کام ان گنت۔
بوجھ دل سے کوئی ہٹانے میں لگے ہیں۔
کوئی وعدہ وفا کر کے بھول گیا ھے شاید!۔
پھر سے یاد اس کو دلانے میں لگے ہیں۔
وہ جو روٹھا ھے ہمسے جھوٹا بہانہ کر کے۔
ہاتھ جوڑ پھر اس کو منانے میں لگے ہیں۔
درد کے مارے ادھر ہم مر رھے ہیں۔
اور وہ دیکھ ہمکو مسکرانے میں لگے ہیں۔
آہ ! پہلے سے وقت اپنا برا چل رہا ھے۔
اور وہ مزیدمصیبتیں بڑہانے میں لگے ہیں
انتظار کی گھڑیاں طویل نظر آ رہی ہیں۔
اسلئے چراغ امید ہم جلانے میں لگے ہیں۔
جب کہ جانتے ہیں وہ حالت زار اپنے۔
پھر کیوں وقت اپنے گنوانے میں لگے ہیں؟
ابھی بھی ان کو ہم پر بھوسہ نہیں شاید !!!
شاید اسلیے وہ صبر اپنے آزمانے میں لگے ہیں۔
اسد عشق کی گتھی سلجھانا نہیں کچھ آساں۔
مدت ہوئی جواز کوئی ڈھونڈھ پانے میں لگے ہیں۔
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






