گو پنکھ نہیں پِھر بھی آزاد نہِیں کرنا
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہگو پنکھ نہیں پِھر بھی آزاد نہِیں کرنا
نا شاد رکھو مُجھ کو تُم شاد نہِیں کرنا
قد کاٹھ اگر دو گے، سمجُھوں گا تُمہیں بونا
بونا ہی رکھو مُجھ کو شمشاد نہِیں کرنا
تُم عام سی لڑکی ہو، میں عام سا لڑکا ہوں
شِیرِیںؔ نہ سمجھ بیٹھو، فرہادؔ نہِیں کرنا
ایسے نہ اُجڑ جانا دیکھو تو کہِیں تُم بھی
بستی ہی کوئی دِل کی آباد نہِیں کرنا
جو ذہن کے ریشوں میں رچ بس کے رہا اس سے
کیسے یہ کرُوں وعدہ اب یاد نہِیں کرنا
اِس شہر کے حاکِم نے یہ حُکم کیا جاری
کُچھ بھی ہو کوئی ہرگز فریاد نہِیں کرنا
بس ایک انا پائی، گھر اپنا لُٹا بیٹھے
اے بیٹِیو! اے بیٹو! اضداد نہِیں کرنا
تہذِیب بتا دے گی، تُم کتنے مُہذّب ہو
ظاہِر ہی کِسی پر تُم اسناد نہِیں کرنا
کُچھ وقت کبھی ہم نے اِک ساتھ گُزارا ہے
اب جور و جفا حسرتؔ، بے داد نہِیں کرنا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






