گڑیا کھلونے کب ساتھی تھے میرے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaگڑیا کھلونے کب ساتھی تھے میرے
ننھی آنکھوں میں بسے بس خواب تھے میرے
زیادہ کچھ تو کبھی نا مانگا رب سے جب
سجدوں میں جھکی پیشانی - دعاؤں میں ُاٹھے ہاتھ تھے میرے
کب گزر گیا بچپن اپنا کب آئی جوانی
اک ناسمجھ لڑکی کے دشمن احباب تھے میرے
کمسن آنکھوں میں جیسے کوئی سیسا ڈال دیا ہو
محبت کے حوالے سے دل توڑنے والے سب گناہگار تھے میرے
محلوں کی طلب تو کبھی خواب میں بھی نہیں کی لکی
اک عشق کرنے والے ساتھی کے بس ارمان تھے میرے
جیسے اپنا سمجھا تھا ُاسی سے تھی امیدیں
چھوڑ کرنے جانے والوں میں شامل ہمنوا تھے میرے
نا وقت گزاری - نا کسی محبت کی بات ہے
مجھے تو دغا دینے والے ہمسفر تھے میرے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






