ہاتھوں سے اُس کے نام کی لکیریں مٹ گئیں
Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahoreہاتھوں سے اُس کے نام کی لکیریں مٹ گئیں
تقدیر تھیں جو میری ٗ وہی تقدیریں مٹ گئیں
کہاں کے اٹوٹ بندھن جو کاغذوں سے جڑتے ہیں
سبھی کچھ مٹ گیا جب تحریریں مٹ گئیں
جس نے کیا نہ کبھی پرے اپنے پیار سے مجھے
مجھ پر سے اُس پیار کی زنجیریں مٹ گئیں
پایا اُس خواب کو اِک عرصۂ حیات تلک
کُھلی جیسے ہی آنکھ ٗ تعبیریں مٹ گئیں
سَو سوچی تھیں ٗ نہ کھوئیں گے اُسے ہم کبھی
وقت نے چھین لیا اُسے ٗ تدبیریں مٹ گئیں
اللہ رے! میری محبت کے ہر موڑ پہ شکوے
جب ٹوٹ گئے سلسلے ٗ سبھی تقصیریں مٹ گئیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






