ہر ایک شخص کو دشمن اگر بناؤ گے
Poet: اطہر شکیل By: محمد رضوان, Multanہر ایک شخص کو دشمن اگر بناؤ گے
مزاج پوچھنے والا کہاں سے لاؤ گے
جو سب کو اپنے ہی معیار پر پرکھتے رہے
تو زندگی میں کسے ہم سفر بناؤ گے
یہاں تو ہر کوئی چہرے پہ چہرے رکھتا ہے
اٹھا کے پہلو سے کس کو کسے بٹھاؤ گے
تمہیں اصول تمہارے ہی مار ڈالیں گے
نہ اپنے آپ کو ان سے اگر بچاؤ گے
چراغ جلنے لگیں گے تمہاری راہوں میں
جو دوسروں کے گھروں میں دیے جلاؤ گے
یہ عہد تم سے اگر ہو سکے تو کر لینا
ہمارے بعد کسی کا نہ دل دکھاؤ گے
نہیں جھکو گے اگر اک خدا کے آگے تم
نہ جانے کتنے دروں پر یہ سر جھکاؤ گے
وہ تم سے روٹھ گئی جو مکاں کی رونق تھی
غریب خانے کو اب کس لئے سجاؤ گے
سپرد خاک تو کر آئے ماں کو تم اطہرؔ
غموں کی دھوپ میں سایہ کہاں سے پاؤ گے
یہ بے حسوں کی ہے بستی تو پھر شکیلؔ یہاں
صداقتوں کا کسے آئنہ دکھاؤ گے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






