ہمیں رونا بھی آتا ہے دکھ دھونا بھی آتا ہے
Poet: محمد اطہر طاہر ہارون آباد By: Athar Tahir, Haroonabadﮨﻤﯿﮟ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﮐﮫ ﺩﮬﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺍﮔﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﭘﮧ ﮨﻢ ﺁﺋﯿﮟ
ﺗﻮ ﺩﺭﯾﺎ ﮨﯽ ﺑﮩﺎﺩﯾﮟ ﮨﻢ
ﺑﻨﯿﺎﺩﯾﮟ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ
ﺍﮎ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﮔﺮﺍﺩﯾﮟ ﮨﻢ
ﺗﯿﺮﯼ ﻓﺮﻋﻮﻧﯿﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ
ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮑﺎ ﺩﯾﮟ ﮨﻢ
ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮩﺎﺩﯾﮟ ﮨﻢ
ﮨﻤﯿﮟ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﺩﮐﮫ ﺩﮬﻮﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺭﻭﻧﮯ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﻮﮞ
ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﺴﻮ ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺴﺘﯽ ﻧﮧ ﺟﻞ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺴﺘﯽ ﻧﮧ ﺟﻞ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﻧﮧ ﺟﺎﺋﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﺭﻭﻧﮯ ﻣﯿﮟ
ﺍﺗﻨﺎ ﻓﺮﻕ ﮨﮯ ﺟﺎﻧﺎﮞ
ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺷﮑﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺎﺛﯿﺮ
ﺩﻟﻮﮞ ﭘﮧ ﺿﺮﺏ ﮐﺎﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﻞ ﺭﻭﻧﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﭘﮧ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮨﮯ
More Sad Poetry
میری تم سے ہے اک التجا میری ہے تم سے اک التجا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
Zohaib sarwar
یہ میری صداؤں کا کیا جو اب بھی مجھ سے دور ہو یہ میری صداؤں کیا جو اب بھی مجھ سے دور ہو
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
Zohaib sarwar
یہ عشق کچھ جوانی تو آنے دیتا یہ عشق کچھ جوانی تو آنے دیتا،
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔
Waqas khalid shamas






