ہم سے ملنے کو آئیے صاحب
Poet: Mah Rukh Zaidi By: Shazia Hafeez, Attockہم سے ملنے کو آئیے صاحب
یا ہمیں ہی بلائیے صاحب
دوست ہی کیا سدا رہیں گے ہم
بات کچھ تو بڑھائیے صاحب
ہو گیا ہے جو لکھا تھا قسمت میں
کاہے آنسو بہائیے صاحب
پاس آجائیے خدا کے لئے
دل نہیں اب جلائیے صاحب
بھوک تو مر گی ہے ہماری اب
کسی کی خاطر کمائیے صاحب
تھوڑی اشکوں کی کیجیے برسات
آگ دل کی بجھائیے صاحب
کیوں ہے خاموش اس قدر آخر
کچھ تو ہم کو بتائیے صاحب
خوف آتا ہے اس اندھیرے سے
ہاتھ اپنا بڑھائیے صاحب
آپ کے ساتھ کون تھا کل شب
ہم سے کچھ مت چھپائیے صاحب
ماہ رخ بے وفا ہے لوگ یہاں
کیا بھلا دل لگائیے صاحب
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







