ہم کو تمہارے پیار کا حصہ نہیں ملا
Poet: رضا علی مکرم By: razaali, Azamgarhمجروح دل کو مرہمِ پارا نہیں ملا
غم کی دوا ملی تھی مسیحا نہیں ملا
محرومیوں کی اوڑھے تھی چادر یہ حسرتیں
بے آبرو ضمیر کو رستہ نہیں ملا
آوارگی کے شوق میں تنہا ہی رہ گئے
پھر عشق کے جنون کو جز بہ نہیں ملا
آسودہ دل تھا پہلے راحت کی زندگی تھی
ہنستا تھا جسکی خاطر وہ چہرہ نہیں ملا
دستک کوئی دیتا میرے سطحِ خیال پر
پر اجنبی کو روح کا رشتہ نہیں ملا
مر جاؤنگا کسی دن اپنی وفا سے کہہ کے
ہمکو تمھارے پیار کا حصہ نہیں ملا
گل پوش وادیوں سے یہ کہہ کر رضا چلا ہے
پیروں میں زخم خار سے گہرا نہیں ملا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






