ہے یہی میری دعا مجھ سے کبھی ہوں آشنا
Poet: عامر ثقلین By: عامر ثقلین , Arifwalaہے یہی میری دعا مجھ سے کبھی ہوں آشنا
زندگی کے راز جو دل میں تھے تیرے دلربا
وہ بنا دیتے ہیں سونا پاس جائیں گر کبھی
روح اپنی جسم اپنا دنیا میں اہل صفا
انجمن تھی تم سے قائم تُو گیا سب کچھ گیا
آشیاں ویران کرکے اب یہی ہوں سوچتا
تجھ سے قائم دل کا رشتہ روح کا اور ذات کا
ذوق مستی شوق تُو ہے تُو ہے منزل باخدا
شام ہونے کو ہے آئی کام باقی ہے ابھی
کیسے جاؤں گھر کو اپنے چھوڑ کر تو ہی بتا؟
فتنے بڑھتے جا رہے ہیں چار سُو عالم میں اب
اک مسیحا بھیج کر فتنوں کو دنیا سے مٹا
دل مرا پتھّر نہیں ہے خواہشوں سے ہے بھرا
حسن, جلوہ ,دید تیری مجھ کو ساقی بھی دکھا
میرے محسن پھول کلیاں سب ہیں تیری منتظر
تیری آمد کی خوشی میں گھر کو رکھا ہے سجا
دل فسردہ سا ہے عامر خار لگتا ہے جہاں
سوچ کر ارض و سما کو بھی تو ہونا ہے فنا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






