یا خدا بن جاؤں میں پتھر کی مورت کِس طرح
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKیا خدا بن جاؤں میں پتھر کی مورت کِس طرح
دِل پہ سہتی ہی رہوں میں ان کی نفرت کِس طرح
جو یہ کہتا تھا میں اس کی روح کا سکھ چین ہوں
ہوگئی اُس کے لئے میں بے ضرورت کِس طرح ؟
دوریاں بڑھتی ہی جائیں گی اگر ہر دِن یونہی
دور کر پاؤں گی میں ان کی کدورت کِس طرح ؟
ایک دو پل کی محبت کی یہاں فرصت نہیں
لوگ اِک دوجے سے کر لیتے ہیں نفرت کِس طرح ؟
تم ہماری زندگی کا ایک ہی ا ر ما ن ہو
دِل سے جانے کی تمہیں دے دیں اِجازت کِس طرح ؟
غیر بن کر جب مرے اپنوں نے آ نکھیں پھیر لیں
کیا کہوں ٹوٹی پھر اس دِل پر قیامت کِس طرح
چھوڑئیے کیا چاہتیں بھی بانٹنے کی چیز ہیں ؟
کوئی سہہ سکتا ہے چاہت میں شراکت کِس طرح
لوگ جو ہوتے ہیں سارے ایک کشتی کے سوار
ایک دوجے کو وہ کرتے ہیں ملامت کِس طرح ؟
میری آنکھوں سے جھلکتا غم انہی کی دین ہے
بھول جاؤں میں بھلا ان کی عنائیت کس طرح ؟
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






