یہی تھا جانِ من ، بالکل ہمارا حال پہلے بھی
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIیہی تھا جانِ من ، بالکل ہمارا حال پہلے بھی
یہی ہم سوچتے تھے آج سے کچھ سال پہلے بھی
ردائے خواب سے باہر نہیں نکلے ہیں ہم اب تک
ستاروں سے بھری اوڑھے ہوئے تھے شال پہلے بھی
اسی دامن سے آنسو پونچھتے تھے خلوتوں میں ہم
اسی مٹی میں رلتے تھے ہمارے لال پہلے بھی
درو دیوار ہی سنتے تھے سارے شہر کے دکھڑے
یہی تھا دامعینِ محترم کا کال پہلے بھی
یہی دامن تھا جس کی دھجیوں پر شعر لکھتے تھے
ہمارا شہر میں تھا میر جیسا حال پہلے بھی
یہ عشق آرزو پہلے بھی گلیوں میں پھراتا تھا
گلے کا طوق تھا کم بخت یہ جنجال پہلے بھی
نئی اب کون سی حالات کی صورت نکل آئی
یہی ہم تھے ، یہی تم تھے ، یہی احوال پہلے بھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






