یہ آنکھ رو پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiکی اس نے ایسی بات کہ یہ آنکھ رو پڑی
قسمت کی بدحالی پر یہ آنکھ رو پڑی
آنے سے بہار کے وہ چمن کھل اٹھا
پر گل کی بربادی پر یہ آنکھ رو پڑی
ستم سہ سہ کے ایسا عادی ہوا وہ شخص
کہ آزادی پر اسکی یہ آنکھ رو پڑی
چھپاتی رہی اپنا آپ زمانے کے سامنے
آئینے میں عکس دیکھا تو یہ آنکھ رو پڑی
ہوا انکی محفل میں جب میرا تذکرہ
عائش ہزار ضبط کہ بعد بھی یہ آنکھ رو پڑی
لاکھ چاہوں تو بھی نہیں بھول سکتی اسکو
آج بھی جس کی یاد پہ یہ آنکھ رو پڑی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






