یہ دِل کی تمنا ہے کہ اِس دل میں رہا کر
Poet: Arif Hussain Arif By: Qasim Raza, Faisalabadیہ دِل کی تمنا ہے کہ اِس دل میں رہا کر
خواہش کو کبھی دیس نکالا نہ دِیا کر
میں نفرتِ احباب کے صدمے سے نبٹ لوں
اے زندگی لازم ہے کہ تو مجھ سے وفا کر
تجھ کو بھی کچل ڈالا ہے دنیا کی ہوس نے
میں نے نہ کہا تھا کہ زمانے سے بچا کر
یہ دِل کہ تیری یاد سے غافِل نہیں رہتا
دیکھا ہے اسے اور بھی کاموں میں لگا کر
میں عمر گزاروں گا اسی قید میں رہ کر
کب میں نے کہا پیار کے زنداں سے رہا کر
جس شخص نے دنیا کیلئے ہم کو بھلایا
اِک روز وہ آئے گا زمانے کو بھلا کر
اے واعظِ منبر ہے نصیحت میری تجھ کو
کچھ کام تو دنیا میں فسادوں کے سوا کر
اک روز ہے اس مٹی کے نیچے تجھے جانا
اس طرح نہ اترا کے زمیں پر تو چلا کر
عارف جو حقیقت ہے وہ باتوں میں کہاں ہے
ممکن ہو تو لوگوں کی نگاہوں کو پڑھا کر
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






