یہ لڑکی کون لڑکی ہے
Poet: Sadeed Masood By: Sadeed Masood , Newzeland Aucklandیہ لڑکی کون لڑکی ہے
جو میرے پاس ہی رہتی ہے
اور مجھ سے ہر دم کہتی ہے
چل اے ساجن بھاگ چلیں
ہاتھ میں ڈالیں ہاتھ چلیں
چاند کی نگری بسیرا ہو
جہاں کوئی نہ تیرا میرا ہو
ہم بھی کھل کر بات کریں
صبح سے بیٹھیں رات کریں
جب اتنی باتیں کرتی ہے
پھر خود ہی ڈرنے لگتی ہے
یہ لڑکی کون لڑکی ہے
جو کل شب کو بھی آئی تھی
اور آکر پریت جگائی تھی
پر اب کے میں نے بٹھلایا
اور بٹھلا کر پھر سمجھایا
کہ تیرا میرا پیار سہی
اور تجھ بن میں بیکار سہی
پر اتنا بھی تو سوچ ذرا
کہ تیرا میرا ملنا کیا
تیری سگائی ہوچکی ہے
تو پرائی ہو چکی ہے
تیرے سنگ اب کیسے جاؤں
دنیا کو کیا منہ دکھلاؤں
جب اتنی باتیں سنتی ہے
پھر رو رو آہیں بھرتی ہے
یہ لڑکی کون لڑکی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






