یہ کہانی پھر سہی
Poet: Ghulam abbas By: Ghulam Abbas, Lahoreہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی
کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی
دل کے لُٹنے کا سبب نہ پوچھو سب کے سامنے
نام آئے گا تمہارا یہ کہانی پھر سہی
نفرتوں کےتیر کھائے دوستوں کے شہر میں
میںنے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی
عشق کی بازی وفا کی راہ میں
کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی
سوز عشق جان لیوا کیوں ہُوا
کس کا ڈولا خون سارا یہ کہانی پھر سہی
دوست دشمن دیکھ کر میرے حالات
کر گئے سب کیوں کنارہ یہ کہانی پھر سہی
وقت مرگ زندگی کے واسطے
کون تھا میراسہارا یہ کہانی پھر سہی
ہمارا دامن داغ دار ہے مگر
کس نے رکھا ہم کو پیارا یہ کہانی پھر سہی
تڑپ گئے ترس گئے دیدار کو
چمکے گا پر کب ستارہ یہ کہانی پھر سہی
سوچتے ہیں کیوں کر شاکر ہوئے
کس نے رکھا نام ہمارا یہ کہانی پھر سہی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






