یہ کیسی محبت ہے میری
Poet: NS By: NS, Lahoreیہ کیسی محبت ہے میری
مجھے تم سے دور جانا ہے
تمہیں تھوڑا سا بھلانا ہے
تمہارا نام اپنی زندگی سے مٹانا ہے
قسمت میں اپنا ملن نہیں
یہ دل کو سمجھانا ہے
یہ کیسی مجبوری ہے میری
کیوں مجھے تم سے دور جانا ہے؟
کیوں مجھے تم کو بھلانا ہے؟
یہ کیسی محبت ہے میری
یہ کیسی مجبوری ہے میری
نہ تم کو پانا ہے
نہ تم سے دور جانا ہے
نہ تم کو بھلانا ہے
نہ تم کو یاد رکھنا ہے
یہ کیسی محبت ہے میری
یہ کیسی مجبوری ہے میری
جس کی یاد میں
صبح سے رات کر دیتے ہیں
اسی کو ہم یہ بات بتا نہیں سکتے
جس سے خیالوں میں
ہم محو گفتگو رہتے ہیں
اسی کو حقیقت میں
ہم پکار نہیں سکتے
جس کی دل کائنات پر حکومت ہے
اسی پر ہم تھوڑا سا بھی
حق نہیں رکھتے
یہ کیسی محبت ہے میری
یہ کیسی مجبوری ہے میری
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






