ﺷﺎﻋﺮﯼ ﺟﮭﻮﭦ ﺳﮩﯽ، ﻋﺸﻖ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
Poet: By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIﺷﺎﻋﺮﯼ ﺟﮭﻮﭦ ﺳﮩﯽ، ﻋﺸﻖ ﻓﺴﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﺍﯾﮏ ﻧﻈﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﺗﯿﺮﺍ ﭘﺮﺩﮦ، ﺗﯿﺮﯼ ﺩﻭﺭﯼ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﺎ ﺗﻘﺎﺿﮧ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﻧﻈﺮ ﺑﮭﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﻼ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ
ﮨﺎﮞ ﺗﻢ ﻣﻌﺼﻮﻡ ﺳﮩﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺭﺳﻮﺍ ﮨﯽﺳﮩﯽ
ﮨﻢ ﺗﯿﺮﮮ ﺩﺭ ﭘﮧ ﺻﺪﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﺋﯿﮟﮔﮯ
ﻧﮧ ﻣﻼ ﻃﺮﺯ ﻓﻘﯿﺮﯼ ﺗﻮ ﺩﯾﺪ ﮐﺎ ﮐﺎﺳﮧ ﮨﯽﺳﮩﯽ
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺘﺎﮨﮯ
ﻭﮦ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺤﺴﻦ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ، ﺩﺭﺩ ﺷﻨﺎﺳﺎﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﺍﺗﻨﯽ ﺗﻮ ﺧﯿﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮨﮯ ﮐﮧﺟﺪﺍﺋﯽ ﺳﮩﮧ ﻟﯿﮟ
ﮨﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﻨﺪﺍﺭ ﺩﻝ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻠﻮﺗﮭﻮﮌﺍ ﮨﯽ ﺳﮩﯽ
ﮨﻢ ﺗﯿﺮﮮ ﻋﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮ ﮐﺎﺭ ﻣﻮﺳٰﯽ ﺗﻮﺑﻨﮯ
ﻣﻌﺠﺰﮦ ﻃﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﯿﺮﺍ ﺟﻠﻮﮦ ﮨﯽﺳﮩﯽ
ﺗﯿﺮ ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﻟﮕﮯ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﻋﻨﺎﯾﺖﮨﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﺳﻮﭼﺎ ﻧﻔﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﻨﮩﺎﮞ ﮨﯽﺳﮩﯽ
ﭼﻠﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﺑﮩﺎﻧﮧ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﭨﮭﮩﺮﯼ
ﺧﻮﻑ ﻣﺤﺸﺮ ﻧﮧ ﺳﮩﯽ ﻭﮦ ﻏﻢ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﮨﯽﺳﮩﯽ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






