اگر وعدہ کیا ہے زندگی بھر ساتھ چلنے کا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلااگر وعدہ کیا ہے زندگی بھر ساتھ چلنے کا
تو موقع ڈھونڈ لو دنیا کی جھنجٹ سے نکلنے کا
سنا ہے بارشوں میں چاہتوں کے پھول کھلتے ہیں
یہی موسم ہے دل میں دوستو ارماں مچلنے کا
تمہیں ہے ناز نظروں پر ،ہمیں بھی ناز ہے دل پر
رہِ دنیا میں دونوں کو ہی مل جل کر ہے چلنے کا
یہ روح و جسم کا رشتہ تو اک دن ٹوٹ جائے گا
اگر چاہو تو اب بھی وقت ہے رستہ بدلنے کا
مراسم ہیں نہ پہلے سے نہ پہلی سی محبت ہے
تو پھر کیا خاک آۓ گا مزا آتش میں جلنے کا
اشارہ آپ کی آنکھوں کا مبہم تھا ،سمجھتے کیا
وضاحت کچھ نہ تھی اور نہ ہی موقع تھا سنبھلنے کا
ہزاروں کوششیں کی ہیں مگر افسوس اے وشمہ
ہنر آیا نہ ہم کو وقت کے سانچے میں ڈھلنے کا
More Friendship Poetry
نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم نہیں قائِل میں وَعدوں کا مگر اِتنا تو جانو تُم
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
کہ یاروں کو بھُلایا ہو نِشاں بھی نہیں مِلتا
میں اَپنوں کے لیے ہر درد چُپ رَہ کر ہی سَہتا ہوں
لَبوں پَر آہ کا کوئی اِمکاں بھی نہیں مِلتا
مُحَبَّت کے بہت دَعوے کِیے چہروں نے مِل کر اَب
مگر سچ ہے کہ ان جیسا انساں بھی نہیں ملتا
سَہارا جو بُرے وَقتوں میں لوگوں کا بَنے یارو
زَمانے میں کِسی کو وہ خانداں بھی نہیں ملِتا
میں اَپنے دوست کی خاطِر زَمانے بھَر سے لَڑ جاؤں
مَطلَب پَرَستوں میں یہ اِیماں بھی نہیں ملِتا
جو دِل میں ہے وُہی لَب پَر، نہیں ہے پَردہ کوئی بھی
مِرے کِردار میں جھُوٹوں کا دھِیاں بھی نہیں مِلتا
مظہرؔ یاروں کی چاہَت میں ہمیشہ سَر جھُکاتا ہے
وفاداری کے رَستے میں نُقصاں بھی نہیں مِلتا
MAZHAR IQBAL GONDAL






