رکھتا نہیں ہے ہم سے جو وہ بے وفا گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادنیا میں کب نکلتی ہے بے التجا گیا
رکھتا نہیں ہے ہم سے جو وہ بے وفا گیا
مطلب نہ ظلم سے ہے نہ تیرے ستم سے کام
ان کو وفا سے اپنی ہے اے پر جفا گیا
نا حق بناوں اپنے لیے اور مدعی
کیا جاؤں میں وہاں مجھے کچھ مدعا گیا
کوئی برا کہے ہمیں یا عشق میں بھلا
ہم کو برے بھلے سے نہیں نا صحا گیا
دل جانتا ہے جیسے یہ صاحب ہے سنگدل
تو ہم بھی بے غرض ہیں ہمیں اس سے کیا گیا
مطلب نسیم سے ہے نہ تجھ سے صبا غرض
مہرووفا کے ڈھنگ میں ظلم و جفا گیا
ہر آشنا سے ایسا ہے اب آشنا کا طور
دو دن میں جیسے بگڑے ہے رنگِ حنا گیا
یارب میں درد کھا کے سراپا تمام رات
جلتی ہوں مثلِ سردچراغاں کیا گیا
اے وشمہ خان تیری محبت کی خیر ہو
چاہت سے تھا نہ دل تو کبھی آشنا گیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






