“شہ.......... مجھے نہ بتانا“
Poet: Saba Hassan By: saba Hassan, Lahoreسچ بتانا کیا یاد آتی ہوں میں
سرد ہواؤں کے معصوم تھپیڑوں میں
گرم ہواؤں کے جھکڑو میں
برسات کی بوندوں میں .... بہار کے پھولوں میں
کانٹوں کی چبھن میں.... آہ و فغاں میں
مست ہوا میں تاروں میں کرن میں
چاند کی تازگی.... سورج کی تپش میں
چاپوں کی صد ا میں.... منزلو ں کے نشان میں
شہ.... مان لیا یاد اتی ہی نہیں میری
کوئی بھی عالم ہو کوئی بھی موسم ہو
وقت بھلا جو بھی ہو
مگر ذرا غور سے سن لو
ہاتھ دھرو دل پہ نظر روح پہ رکھ لو
جو بھی ہے.... جیسا بھی ھے
مان لیا!!! مجھے نہ اسکا مگر پتہ دینا
سوئےہوئےسارے گھاؤ میرے
بجھے ہوئے دکھوں کے سارے الاؤ میرے
ادھیڑ کرزخم وہ... جلا نہ دینا
میں حماری سی... پگلی سی... مردہ جان!!!
خوش فہمی کی تازہ قبر پہ
ماتم و نوحہ و کنعاں سی غافل
خوشگمانی کے کفن میں لپٹی... زندہ ہوں
بھرم رکھنا اس لاش کا
علم نہ ھو مجھکو
دفن کرنا میرے ماضی کو
اور شہ .........!!!! مجھے بھول جانا تم
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






