"قصور کی معصوم بیٹیوں کے نام"
Poet: ام بلال ریاض By: ام بلال, ریاضجب معاشرے میں برائیاں عام ہوتی ہیں
تو بیٹیاں اسی طرح رسوا سرِ عام ہوتی ہیں
بنت حوا کی زندگیاں بے بسی کے نام ہوتی ہیں
اسی طرح انکی زندگی کی شام ہوتی ہیں
ان خون آشام بھیڑیوں سے ھم انہیں کیسے بچائیں گے
جب ہمارے محافظ انکے ہاتھوں بک جائیں گے
کیوں کسی نے ان معصوموں کی چیخیں سنی نہ آہیں
یہ تو ایسا ظلم ہے کہ پہاڑ بھی حل جائیں
کتنا شور کرو گے پھر تم چپ ہوجاؤ گے
دبا کے ان معصوموں کو مٹی میں تم پھر سوجاؤ گے
ظلم درندوں کا ھے تو تمھارا بھی قصور ھے
خود اپنے ہاتھوں سے کیا تم نے انکو دور ھے
کیوں ان معصوموں کو اکیلا باہر بھیجتے ہو
اپنے ہاتھوں سے درندوں کے ہاتھ میں دیتے ہو
اگر نہ کی تم نے اپنے معاشرے سے دور برائی
تو اسی طرح ہوتی رھے گی معصوم بیٹیوں کی رسوائی
آج بنت حوا ہر طرف دیتی ہے یہ دھائی
کب ہو گی ہمارے اوپر کیئے گئے ظلموں کی سنوائی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






