محبت اک کھلونا تھا
Poet: عمیر اکبر تابش By: umair Akbar tabish , Rawalpindi محبت اک کھلونا تھا جسے وہ توڑ دیتی تھی
گلے لگ کے وہ روتی تھی ، پھر تنہا چھوڑ دیتی تھی
محبت تھی مجھے اس سے اسے بھی تو تھی شاید
پکڑ کر ہاتھ میرا وہ سر راہ چھوڑ دیتی تھی
بچپن سے وہ میری تھی فقط میرا یقین یہ تھا
میری ہر بات کو وہ بس ہنسی سے ٹال دیتی تھی
اسے میں اچھا لگتا تھا یا میری سوچ تھی ایسی
فقط تم دوست ہو میرے یہ اکثر بول دیتی تھی
کھلونا تھا یقینن میں اس کے ہاتھ کا ایسا
ہتھیلی میں ہی جس کو وہ مثل کر توڑ دیتی تھی
گرتے ہی نہیں تھے پھر میرے جذبات کے ٹکڑے
صندل کر کے اشکوں کو وہ میرے رول دیتی تھی
میری آنکھوں میں لکھی تھی محبت کی کہانی جو
ادھوری پڑھ کر اکثروہ وہیں پھر چھوڑ دیتی تھی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






