موت سے ملنا سکیھ لیا ہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaدکھوں میں مسکرانا سکیھ لیا ہے
اپنے غموں کو چھپانا سکیھ لیا ہے
محفلوں میں دل جلانا سکیھ لیا ہے
تنہایوں کو گلے لگانا سکیھ لیا ہے
اپنے اشکوں کو آنکھوں سے چھپا کر
اپنے لفظوں میں بہانا سکیھ لیا ہے
دیکھوں ! میرے لفظ رو رہے ہیں میں نے
اپنے صحفوں کو سوکھانا سکیھ لیا ہے
کون ہوں میں ؟ یا کون تھی میں ؟
میں نے خود کو بھلانا سکیھ لیا ہے
کیا تھی باتیں میری ؟ یا ، کیا تھی سوچیں میری ؟
میں نے اپنی ہستی کو بھلانا سکیھ لیا ہے
خود ہی تو دیپ جلایے تھے میں نے
سنو ! میں نے ُانہیں بھجانا سکیھ لیا ہے
وہ جو پاگل پن تھا مجھ میں تیرے لیے
آ جاؤ تم کہ میں نے ُاسے دبانا سکیھ لیا ہے
تیری راہیں جو میری ہمسفر بن گئی تھی
سنو ! میں نے راہیں بدلنا سکیھ لیا ہے
چاہے مر جاؤں ، یا پھر زندہ راہوں لکی
تم نا گھبراوں کہ میں موت سے ملنا سکیھ لیا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






