میں کیسے بُھلاوں تم کو مجھے اتنا بتا دو
Poet: M,masood By: M,masood, Nottingham میں کیسے بُھلاوں تم کو مجھے اتنا بتا دو
ایک کفن لا کے تم اُسے میرے دل پر بچھا دو
اب ختم کر بھی دو تم سلسلہ یہ چاہتوں کا
جینے کی چاہ کو بھی میرے دل سے مٹا دو
مجھے اِس قدر نہ مہربان ہو کر دیکھو تم
چھوٹی سی بات پر مجھ سے رُوٹھ جاو تم
میری نیندوں کو میری آنکھوں سے تم چرا لو
قسمت کے آنسو میری پلکوں پر تم سجا دو
تیری دنیا میں رہیں اب خوشیوں کے مناظر
دعا ہے بہاریں برساہیں ہزاروں پھول تم پر
سرہانے جو پڑی رہتی ہے وہ کتاب اُٹھا لو
سمٹی ہوئی میری غزل اپنے ہونٹوں سے لگا لو
بُھول جانا تم کو ہم سے تمیں پیار تھا کبھی
خوشیوں کی تیرے جیون میں نہ ہو کوئی کمی
مجھ پر کرو کوئی ایسا ظُلم آج مجھ کو رُولا دو
آج ایسا زخم دو کہ زندگی بھر کے لیے سُلا دو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






