!!هر روز میری یاد میں آتے کیوں هو
Poet: سیده سعدیه عنبر جیلانی By: سیده سعدیه عنبر جیلانی, فیصل آباد, پنجاب , پاکستانہر روز میری یاد میں آتے کیوں ہو
مراسم جو نہیں کوئی پھر ستاتے کیوں ھو
ہر روز کرتے ہو بات وفا کی
پھر روز یہی بات بھلاتے کیوں ہو
بن کے طبیب میرے درد کے ہمدم
بات بے بات مجھے رلاتے کیوں ہو
ڈھونڈتے ہو نام میرا قسمت کے دریچوں پر
پھر ذات میری خود ہی مٹاتے کیوں هو
چاہتے ہو محبت کا عروج بھی تم
تہمت اسی کو پھر بناتے کیوں ہو
دل میں رکھتے ہو ہمیں چھپا کر
دل کی بات بھلا ہم سے چھپاتے کیوں ہو
وہ میرا تو کسی طور نہیں
دل ء ناداں بات بڑھاتے کیوں ہو
جانتے ہو تم بھی میرے جزبوں کی حقیقت
ہر بار حقیقت میری آزماتے کیوں ہو
ترک تعلق ہے تو اے دل
پاس وفا اس سے نبھاتے کیوں ہو
در دل ہی جب مجھ پہ بند ہے اس کا
زمانے اسے حال میرا سناتے کیوں ہو
یارب رکھنا بھی چاہتے ہو مجھے تم
تحریر میرے نام کی پھر جلاتے کیوں ہو
اب تو گنواء چکے خود کو عنبر
عقل والوں اب سمجھاتے کیوں ہو
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






