وہ کیسی ہوگی
Poet: SIDDIQUI By: HAFIZ MHD AHMD SIDDIQUI, GLASGOW UKپتہ نہیں وہ کیسی ہوگی کیسی ہوگی
اپنے آنگن کے کونے میں بیٹھی ہوگی
بیتابی سے میرا رستہ تکتے ہوئے
آجا آجا دل ہی دل میں کہتی ہوگی
میری یادوں کے دل مین طوفان لیے
مضطرب بیچین وہ ہوکر روتی ہوگی
یہ نہ ہو جائے وہ نہ ہو جائے
اگر مگر کے تنے بانے بنتی ہوگی
کمپیوٹر خراب ہے اس کا اف اللہ
ریڈیو پہ وہ انڈین گانے سنتی ہوگی
ظاہری حسن تو چار دنوں کا مہماں ہے
ہاں یہ سچ ہے دل کی وہ شہزادی ہوگی
زیادہ سوچ و فکر نہ کر اس کا احمد
دل کے فون سے تیری باتیں سنتی ہوگی
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






