کبھی جب دشتِ جاں میں خواہشوں کی آگ جلتی ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKکبھی جب دشتِ جاں میں خواہشوں کی آگ جلتی ہے
مرے اندر چھپی اِک موم کی عورت پگھلتی ہے
ہے تو آکاش میں دھرتی ، تجھے چھونا ہے نا ممکن
تجھے چھونے کی خواہش کیوں مرے دل میں مچلتی ہے
کچوکے مجھ کو دیتا ہے مرا احساسِ تنہائی
مرے دالان میں جب سردیوں کی شام ڈھلتی ہے
ہجومِ غم سے گھبرا کر نہ ہو مایوس خوشیوں سے
جہاں پلتا ہے غم دل میں،خوشی بھی ساتھ پلتی ہے
بس اتنی شرط ہے کہ اِک ذرا زرخیز ہو جائے
زمینِ فکر کی مٹی تبھی سونا اگلتی ہے
بڑا مشکل ہے رکھنا پیار میں جذبات پر قابو
تمنا جب مچل جائے بھلا پھر کب سنبھلتی ہے
کریں نہ ہم بھی کیوں دستِ دعا اپنے دراز آخر ؟
دعاوَں سے تو سنتے آئے ہیں قسمت بدلتی ہے
مجھے عذراؔ تری قربت کا موسم یاد آتا ہے
جواں شب قطرہ قطرہ شمع جیسی جب پگھلتی ہے
( ترمیم شدہ)
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






