کھوکھلی ہنسی !
Poet: عمیر اکبر تابش By: umair Akbar tabish , Rawalpindiاندر سے مر چکا ہوں دیکھو میرا تبسم
لبوں پہ کھل گیا ہے
سب یہ سمجھ رہے ہیں خوشی سے جی رہا ہے
انہیں معلوم کیا یہ اندر سے مر چکا ہے
مر مر کے جی رہا ہے اشکوں کو پی رہا ہے
کانٹوں کے اک سفر پہ ہتھیلی کو رکھ کے اپنی
تلاش وفا میں پاگل کب سے جی رہا ہے
سنے کوئی کیوں فریاد قلب مقتل
خودی کو قتل کر کے خودی میں جی رہا ہے
دے رہا ہے خود کو سزا مسلسل ظالم
ہجر و فراق کے سب غم خود ہی تو پی رہا ہے
اپنے ہیں سب میرے اپنے بیگانہ تو کوئی نہیں ہے
اپنوں میں اک بیگانہ تابش ہی جی رہا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






