گنہ کرنے کی خاطر میں جہاں میں ہر جگہ بھٹکا
Poet: SN Makhmoor By: SN Makhmoor, Karachiگنہ کرنے کی خاطر میں جہاں میں ہر جگہ بھٹکا
زمانے سے چھپا لیکن جہاں پہنچا خدا ہوتا
مجھےلا دے مرا بچپن وہ مٹی کے کھلونے سب
چمکتے زر جواہر میں مرا دل اب نہیں لگتا
گلے مجھ سے ملا جگ یہ مکیں گھر کے مگر میرے
وہ ہی سچے وہ ہی اپنے نہیں ان سا مرا اپنا
مری آنکھوں میں کٹتی ہیں مری راتیں مرے ہمدم
زمیں میرا بچھونا ہے ترا مخمل لگے کانٹا
گھٹن لگتی مجھے یاروں امیروں کے محلے میں
میں غربت کا رہا عادی امیروں میں نہیں رہتا
مری مشکل رضا تیری تری مرضی خوشی میری
جبیں میری نگوں یارب کبھی شکوہ نہیں کرتا
مری نسبت محمد ہیں مرا گھر بھی علی کا ہے
صداقت ہے سخن میرا کبھی سید نہیں ڈرتا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






