تشنگی
Poet: Eisha-Tul-Razia(مسافر) By: Eisha-Tul-Razia, GUJRATدھر اس تشنگی کا سبب ... تیرا نظریں چرانا ہے
پر تجھے کیا کہیں اب ہم.. کہ ترا کام ہی ستانا ہے
کبھی چائے.. کبھی سگریٹ.. لبوں سے میں لگاتا ہوں
اے ساقی جام دے.. کہ اب ، اس آتش کو بجھانا ہے
سوچا تھا کہ سہہ لو گے.. تو. سب کہنے لگا تم سے
سمجھایا اضطراب نے ترے،"کچھ باتوں کو چھپانا ہے
جہاں کی چمکتی کوئی ادا مجھ کو نہیں بھاتی
ضمیر!!! کوئی شعلہ دے ....مجھے یہ نفس جلانا ہے
مسافر اس سفر میں بھی تیرا مشغلہ وہی پرانا ہے
یعنی خود کو بنانا ہے، مٹانا اور مٹا کر پھر بنانا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






