“مدر ٹریسا“ حصہ دوم
Poet: Javed Akhtar By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIتو نے کبھی یہ کیوں نہیں سوچا
کونسی طاقت
انسانوں سے جِینے کا حق چھِین کے
ان کو فٹ پاتھوں اور کُوڑا گھروں تک پہنچاتی ہے
تُو نے کبھی یہ کیوں نہیں دیکھا
وہی نظامِ زَر
جس نے ان بُھوکوں سے روٹی چھینی ہے
تیرے کہنے پر
بُھوکوں کے آگے
کچھ ٹکڑے ڈال رہا ہے
تُو نے کبھی یہ کیوں نہیں چاہا
ننگے بچّے
بُڈّھے کوڑھی بے بَس انساں
اِس دنیا سے
اپنے جِینے کا حق مانگیں
جِینے کی خیرات نہ مانگیں
ایسا کیوں ہے
اِک جانب مظلوم سے تجھ کو ہمدردی ہے
دوسری جانب
ظالم سے بھی عار نہیں ہے
لیکن سچ ہے
ایسی باتیں
میں تجھ سے کِس مُنہ سے پُوچھوں
پُوچھوں گا تو
مجھ پر بھی وہ ذمّے داری آ جائے گی
جس سے میں بچتا آیا ہوں
بہتر ہے خاموش رہوں میں
ور اگر کچھ کہنا ہو تو
یہی کہوں میں
اَے ماں تھریسا
مجھ کو تیری عظمت سے اِنکار نہیں ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






