3-حیاتَ گُم گشتہ
Poet: Tahir By: Dr Khizar Hayat Tahir, Rawalpindi صبح سویرے شہر کو لڑکا پڑھنے جایا کرتا تھا
گاؤں سے باہر دُور سے لڑکی اللہ حافظ کہتی تھی
چھٹی کر کے شہر سے لڑکا گاؤں واپس آتا تھا
ہم مکتب احباب کو چھوڑے لڑکی سے جا مَلتا تھا
اور چہرہ دیکھ کے لڑکی کا
لڑکے کی تھکن اڑ جاتی تھی
باتیں پھر سارے گاؤں کی سب لڑکی اُسے سُناتی تھی
لڑکا بھی اُس کو دَن کا سارا حال سُنایا کرتا تھا
لڑکا تب اُس کی باتوں میں کُچھ ایسا گُم ہو جاتا تھا
کُچھ ہوش اُسے نہ رہتا تھا
لڑکی پھر چونک کے اُٹھتی تھی
یہ خیال اُسے تڑپاتا تھا
کہ لمبی مسافت طے کر کے
اور سارا دَن پڑھتے پڑھتے
لڑکا تو تھک جاتا ہے
آرام اُسے اب کرنا ہے
گھر جا اُسے پھر پڑھنا ہے
اُٹھ جانے کا اُسے وُہ کہتی تھی
بڑے پیار سے اُسے مناتی تھی
اور گھر کی راہ دَکھاتی تھی
کیا یاد تجھے بھی آتے ہیں
اَک لڑ کی بھولی بھالی سی اَک لڑکا من کا اُجلا سا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






