Poetries by Abdul Rehman
غزل؛ ’’واقف‘‘ زندگی کو برت کر اس کے راز سے واقف ہوئی
میں خاموش ہوئی تو ہر آواز سےواقف ہوئی
سر اٹھا کر اُڑتے پنچھیوں کو دیکھنا تھا آساں
خود پرواز کی تو کرب پرواز سے واقف ہوئی
مجھے دکھ و خوشی کی موسیقی میں نہ تھی تمیز
خود پہ گزری تو دونوں کے ساز سے واقف ہوئی
مجھ پر لوگ ہنستے ہنستے کر جاتے طنز بہت
میں ناداں کب ریاکاری الفاظ سے واقف ہوئی
لہجے میں پیار دل میں ہر شخص عداوت رکھتا
بہت دیر بعد میں اس شہر کے انداز سے واقف ہوئی
دور رہ کر نہ جان سکی اس کی فطرت
قریب رہ کر میں اس دغاباز سے واقف ہوئی
ابتداء میں ہی تو نے انجام اپنا دکھا دیا
اے محبت میں کب تیرے آغاز سے واقف ہوئی
دو قدم چلی تو وہ چار قدم چل کر آیا فرح
میں اب جاکر اپنے ربِ کارساز سے واقف ہوئی Abdul Rehman
میں خاموش ہوئی تو ہر آواز سےواقف ہوئی
سر اٹھا کر اُڑتے پنچھیوں کو دیکھنا تھا آساں
خود پرواز کی تو کرب پرواز سے واقف ہوئی
مجھے دکھ و خوشی کی موسیقی میں نہ تھی تمیز
خود پہ گزری تو دونوں کے ساز سے واقف ہوئی
مجھ پر لوگ ہنستے ہنستے کر جاتے طنز بہت
میں ناداں کب ریاکاری الفاظ سے واقف ہوئی
لہجے میں پیار دل میں ہر شخص عداوت رکھتا
بہت دیر بعد میں اس شہر کے انداز سے واقف ہوئی
دور رہ کر نہ جان سکی اس کی فطرت
قریب رہ کر میں اس دغاباز سے واقف ہوئی
ابتداء میں ہی تو نے انجام اپنا دکھا دیا
اے محبت میں کب تیرے آغاز سے واقف ہوئی
دو قدم چلی تو وہ چار قدم چل کر آیا فرح
میں اب جاکر اپنے ربِ کارساز سے واقف ہوئی Abdul Rehman
کافی عرصہ بیت گیا جانے اب وہ کیسا ہوگا کافی عرصہ بیت گیا جانے اب وہ کیسا ہوگا
وقت کی ساری کڑوی باتیں چپ چاپ سہتا ہوگا
اب بھی بھیگی بارش میں بن چھتری کے چلتا ہوگا
مجھ سے بچھڑے عرسہ بیتا اب وہ کس سے لڑتا ہوگا
اچھا تھا ساتھ ہی رہتے بعد میں اس نے سوچا ہو گا
اپنے دل کی ساری باتیں خود سے ہی خود کرتا ہو گا
Abdul Rehman
وقت کی ساری کڑوی باتیں چپ چاپ سہتا ہوگا
اب بھی بھیگی بارش میں بن چھتری کے چلتا ہوگا
مجھ سے بچھڑے عرسہ بیتا اب وہ کس سے لڑتا ہوگا
اچھا تھا ساتھ ہی رہتے بعد میں اس نے سوچا ہو گا
اپنے دل کی ساری باتیں خود سے ہی خود کرتا ہو گا
Abdul Rehman
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺗﻢ ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺩﮬﻮﭖ
ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻝ ﺳﮑﮭﺎﺗﯽ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮯ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﭽﮫ
ﮎﭼﮫ ﺭﻧﮓ ﮔﻼﺑﯽ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮔﮩﺮﯼ
ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺅ
ﺑﺎﻝ ﺳﮑﮭﺎﺗﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﭘﮧ
ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺅ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﺍﯾﺴﺎ ﺳﭙﻨﺎ ﮨﻮ
ﺑﯿﮑﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻦ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺎﺵ ﯾﮧ ﺳﭙﻨﺎ
ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﭘﮧ ﺁ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ
ﺭﮎ ﺟﺎﺋﮯ
ﻧﻈﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﮬﮏ ﺩﮬﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻝ
ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺟﮭﮏ ﺟﺎﺋﮯ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﮎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﻮ ﺗﻢ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ
ﮐﺎﭨﻮ ﭘﮭﺮ ﻟﮑﮭﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺳﭙﻨﺎ ﺧﻂ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺍﯾﮏ
ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﮍﮐﺘﮯ ﮨﻮﮞ
"ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻓﺮﺽ ﻧﮧ
ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﻮﮞ"
Abdul Rehman
ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻝ ﺳﮑﮭﺎﺗﯽ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮯ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﭽﮫ
ﮎﭼﮫ ﺭﻧﮓ ﮔﻼﺑﯽ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮔﮩﺮﯼ
ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺅ
ﺑﺎﻝ ﺳﮑﮭﺎﺗﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﭘﮧ
ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺅ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﺍﯾﺴﺎ ﺳﭙﻨﺎ ﮨﻮ
ﺑﯿﮑﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻦ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺎﺵ ﯾﮧ ﺳﭙﻨﺎ
ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﭘﮧ ﺁ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ
ﺭﮎ ﺟﺎﺋﮯ
ﻧﻈﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﮬﮏ ﺩﮬﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻝ
ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺟﮭﮏ ﺟﺎﺋﮯ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﮎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﻮ ﺗﻢ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ
ﮐﺎﭨﻮ ﭘﮭﺮ ﻟﮑﮭﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺳﭙﻨﺎ ﺧﻂ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺍﯾﮏ
ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﮍﮐﺘﮯ ﮨﻮﮞ
"ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻓﺮﺽ ﻧﮧ
ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﻮﮞ"
Abdul Rehman
آبِ رواں میں کیسے امجد اب وہ چہرا جوڑوں گا! اپنے گھر کی کھڑکی سے میں آسمان کو دیکھوں گا
جس پر تیرا نام لکھا ہے اُس تارے کو ڈھونڈوں گا
تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا
ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی
پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا
جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اُس کو چھو کے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا
’’خواب مسافر لمحوں کے ہیں، ساتھ کہاں تک جائیں گے،،
تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے، میں بھی اب کچھ سوچوں گا
بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے
قوسِ قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا
رات گئے جب چاند ستارے لُکن میٹی کھیلیں گے
آدھی نیند کا سپنا بن کر میں بھی تم کو چھو لوں گا
بے موسم بارش کی صورت، دیر تلک اور دُور تلک
تیرے دیارِ حسن پہ میں بھی کِن مِن کِن مِن برسوں گا
شرم سے دوہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بُندا بھی
بادِ صبا کے لہجے میں اِک بات میں ایسی پوچھوں گا
صفحہ صفحہ ایک کتابِ حسن سی کھلتی جائے گی
اور اُسی کو لَو میں پھر میں تم کو اَزبر کر لوں گا
وقت کے اِک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا
آبِ رواں میں کیسے امجد اب وہ چہرا جوڑوں گا!
Abdul Rehman
جس پر تیرا نام لکھا ہے اُس تارے کو ڈھونڈوں گا
تم بھی ہر شب دیا جلا کر پلکوں کی دہلیز پہ رکھنا
میں بھی روز اک خواب تمہارے شہر کی جانب بھیجوں گا
ہجر کے دریا میں تم پڑھنا لہروں کی تحریریں بھی
پانی کی ہر سطر پہ میں کچھ دل کی باتیں لکھوں گا
جس تنہا سے پیڑ کے نیچے ہم بارش میں بھیگے تھے
تم بھی اُس کو چھو کے گزرنا، میں بھی اُس سے لپٹوں گا
’’خواب مسافر لمحوں کے ہیں، ساتھ کہاں تک جائیں گے،،
تم نے بالکل ٹھیک کہا ہے، میں بھی اب کچھ سوچوں گا
بادل اوڑھ کے گزروں گا میں تیرے گھر کے آنگن سے
قوسِ قزح کے سب رنگوں میں تجھ کو بھیگا دیکھوں گا
رات گئے جب چاند ستارے لُکن میٹی کھیلیں گے
آدھی نیند کا سپنا بن کر میں بھی تم کو چھو لوں گا
بے موسم بارش کی صورت، دیر تلک اور دُور تلک
تیرے دیارِ حسن پہ میں بھی کِن مِن کِن مِن برسوں گا
شرم سے دوہرا ہو جائے گا کان پڑا وہ بُندا بھی
بادِ صبا کے لہجے میں اِک بات میں ایسی پوچھوں گا
صفحہ صفحہ ایک کتابِ حسن سی کھلتی جائے گی
اور اُسی کو لَو میں پھر میں تم کو اَزبر کر لوں گا
وقت کے اِک کنکر نے جس کو عکسوں میں تقسیم کیا
آبِ رواں میں کیسے امجد اب وہ چہرا جوڑوں گا!
Abdul Rehman