ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ
Poet: ABDUL Bai By: Abdul Rehman, Doha Qatarﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺗﻢ ﭼﮭﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺩﮬﻮﭖ
ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻝ ﺳﮑﮭﺎﺗﯽ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮯ ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﭽﮫ
ﮎﭼﮫ ﺭﻧﮓ ﮔﻼﺑﯽ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺑﯿﭩﮭﯽ ﮔﮩﺮﯼ
ﺳﻮﭺ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﺟﺎﺅ
ﺑﺎﻝ ﺳﮑﮭﺎﺗﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺳﺮ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﭘﮧ
ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺳﻮ ﺟﺎﺅ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮐﮧ ﻧﯿﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﺍﯾﺴﺎ ﺳﭙﻨﺎ ﮨﻮ
ﺑﯿﮑﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻦ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﮯ ﮐﺎﺵ ﯾﮧ ﺳﭙﻨﺎ
ﺍﭘﻨﺎ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﭘﮧ ﺁ ﮐﮯ ﻗﻠﻢ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ
ﺭﮎ ﺟﺎﺋﮯ
ﻧﻈﺮ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﮬﮏ ﺩﮬﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺩﻝ
ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺟﮭﮏ ﺟﺎﺋﮯ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﮎ ﻧﺎﻡ ﻟﮑﮭﻮ ﺗﻢ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ
ﮐﺎﭨﻮ ﭘﮭﺮ ﻟﮑﮭﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﺍﻓﺴﺎﻧﮧ ﺳﭙﻨﺎ ﺧﻂ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﻮ
ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻝ ﺍﯾﮏ
ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﮍﮐﺘﮯ ﮨﻮﮞ
"ﻓﺮﺽ ﮐﺮﻭ ﯾﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﻓﺮﺽ ﻧﮧ
ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ﮨﻮﮞ"
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL






