Poetries by abdul wadood
رسمِ محبت نے ہمیں یہ صلہ دیا رسمِ محبت نے ہمیں یہ صلہ دی
سارے جہاں کو چھوڑکے، تنہابنا دی
ہم دیدہِ پرنم تھےمگر اشک بار نہیں
فقط بے رخی نے ا’سکی، ہم کو رلا دی
محفل میں ملی مجھ کو اور میں دیکھتا رہ
بس ا‘س کی اداؤں نے، دیوانہ بنا دی
زیاں کے خوف سے وہ راہِ وفا پہ آنہ سکی
محبت د یا رِ غم ہے، یہ بہانا بنا دی
اب تیری محبت کے سوا کام نہیں ہے
اِس دیوانگی نے مجھ کو نکما بنا دی
کہتا ہے کہ عبدالؔ، اب محبت نہیں کرنی
اب دردِ محبت نے سیانا بنا دی
عبدالودود عبدالؔ
سارے جہاں کو چھوڑکے، تنہابنا دی
ہم دیدہِ پرنم تھےمگر اشک بار نہیں
فقط بے رخی نے ا’سکی، ہم کو رلا دی
محفل میں ملی مجھ کو اور میں دیکھتا رہ
بس ا‘س کی اداؤں نے، دیوانہ بنا دی
زیاں کے خوف سے وہ راہِ وفا پہ آنہ سکی
محبت د یا رِ غم ہے، یہ بہانا بنا دی
اب تیری محبت کے سوا کام نہیں ہے
اِس دیوانگی نے مجھ کو نکما بنا دی
کہتا ہے کہ عبدالؔ، اب محبت نہیں کرنی
اب دردِ محبت نے سیانا بنا دی
عبدالودود عبدالؔ
میں نے لفظوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے۔ میں نے لفظوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
سب کتابوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
بہت بیتاب ہو کے راتوں کو
چاند تاروں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
اُس کو پھولوں سے محبت تھی بہت
سب گلستانوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
خود کو تنہا کیا زمانے سے
سب ویرانوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
دیارِ غم میں میراحال ہوا ہے ایسے
دردِدل کی دھڑکنوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
اب تو مجھکو بھی بھروسا نہیں رہا خود پر
خود کی سانسوں میں اُس کو ڈھونڈہ ہے
تمام خوابوں کی بھی تعبیر ہوا کرتی ہے
فقط اسی لیے خوابِ یوسفی میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
عبدلؔ تیرے جینے کا اب مقصد نہیں رہا
تو خود کو چھوڑ آیا ہے۔ جہاں جہاں پر اُسکو ڈھونڈہ ہے عبدالودود عبدالؔ
سب کتابوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
بہت بیتاب ہو کے راتوں کو
چاند تاروں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
اُس کو پھولوں سے محبت تھی بہت
سب گلستانوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
خود کو تنہا کیا زمانے سے
سب ویرانوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
دیارِ غم میں میراحال ہوا ہے ایسے
دردِدل کی دھڑکنوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
اب تو مجھکو بھی بھروسا نہیں رہا خود پر
خود کی سانسوں میں اُس کو ڈھونڈہ ہے
تمام خوابوں کی بھی تعبیر ہوا کرتی ہے
فقط اسی لیے خوابِ یوسفی میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
عبدلؔ تیرے جینے کا اب مقصد نہیں رہا
تو خود کو چھوڑ آیا ہے۔ جہاں جہاں پر اُسکو ڈھونڈہ ہے عبدالودود عبدالؔ
اُسکی یادیں مجھے یاد آتی ہیں کیوں۔ اُسکی یادیں مجھے یاد آتی ہیں کیوں
آکے مجھ کو یونہی تڑپاتی ہیں کیوں
بھولناں چاہوں بھی اُس کو، بھول نہ سکوں
اُس کی باتیں ہمیں یاد آتی ہیں کیوں
میں نے سوچھا کہ مجھ سے ملے نہ کبھی
پر وہ خوابوں میرے یوں آتی ہے کیوں
اُس نے چھوڑا مجھے اور خود چل پڑی
اپنے پیچھے مجھے یوں دوڈاتی ہے کیوں
اشک آنکھوں میں میرے ہمیشہ سے ہیں
اب دل کو میرے یوں دھڑکاتی ہے کیوں
یاروں تم ہی کہو کہ میں کیا اب کروں
نا جانےعبدالؔ کو وہ یوں ستاتی ہے کیوں
عبدالودود عبدالؔ
آکے مجھ کو یونہی تڑپاتی ہیں کیوں
بھولناں چاہوں بھی اُس کو، بھول نہ سکوں
اُس کی باتیں ہمیں یاد آتی ہیں کیوں
میں نے سوچھا کہ مجھ سے ملے نہ کبھی
پر وہ خوابوں میرے یوں آتی ہے کیوں
اُس نے چھوڑا مجھے اور خود چل پڑی
اپنے پیچھے مجھے یوں دوڈاتی ہے کیوں
اشک آنکھوں میں میرے ہمیشہ سے ہیں
اب دل کو میرے یوں دھڑکاتی ہے کیوں
یاروں تم ہی کہو کہ میں کیا اب کروں
نا جانےعبدالؔ کو وہ یوں ستاتی ہے کیوں
عبدالودود عبدالؔ
اُسکی صورت ہے ایسی کہ جیسے گلاب اُسکی صورت ہے ایسی کہ جیسے گلاب
اُسکی یادیں ہیں ایسی کہ جیسے عذاب۔
خوابوں میں آکے وہ مجھ کو جھگا ۓ
یہ عادت ہے اُسکی بہت ہی خراب
نہ جانوں میں یہکہ حقیقت میں کیا ہے۔
پر لگتی ہے مجھ کو بہت ہی نایاب
ملے مجھ سے جب بھی وہ شرما سی جاۓ
چہرہ چھپا کے وہ اوڑھے حجاب۔
آنکھوں میں اُسکی اثر ہے شرابی
وہ بوڈھے کو دیکھے بنا دے شباب
چہرہ ہے اُس کا بہت ہی روحانی
چمک اُسکی ایسی کہ جیسے مہتا ب
یادیں بہت ہیں اُسکی پرانی
سناؤں میں ایسے کہ جیسے کتاب
پر عبدالؔ کی آنکھیں برستی ہیں ایسے
کہ اشکوں کی اُسکا نہیں ہے حساب
abdul wadood
اُسکی یادیں ہیں ایسی کہ جیسے عذاب۔
خوابوں میں آکے وہ مجھ کو جھگا ۓ
یہ عادت ہے اُسکی بہت ہی خراب
نہ جانوں میں یہکہ حقیقت میں کیا ہے۔
پر لگتی ہے مجھ کو بہت ہی نایاب
ملے مجھ سے جب بھی وہ شرما سی جاۓ
چہرہ چھپا کے وہ اوڑھے حجاب۔
آنکھوں میں اُسکی اثر ہے شرابی
وہ بوڈھے کو دیکھے بنا دے شباب
چہرہ ہے اُس کا بہت ہی روحانی
چمک اُسکی ایسی کہ جیسے مہتا ب
یادیں بہت ہیں اُسکی پرانی
سناؤں میں ایسے کہ جیسے کتاب
پر عبدالؔ کی آنکھیں برستی ہیں ایسے
کہ اشکوں کی اُسکا نہیں ہے حساب
abdul wadood
اس دل میں تیری یاد کا طوفان رہے گا اس دل میں تیری یاد کا طوفان رہے گا
جو تم چلے جاؤگے تو ارمان رہے گا
میں شب میں بُلاتا ہوں تجھے خواب میں اکثر
گر سامنے آؤ گے تو احسان رہے گا۔
جس شخص نے دیکھا ہے تجھے روبرو ہو کر
کرتا ہوں میں دعوہ کہ وہ حیران رہے گا۔
اجنبی بن کےجو تو سامنے سے گزرے گی
نہ میرا ہوش، نہ دھڑکن و نہ اوسان رہے گا۔
کب تک کرو گی تم یہ سزاۓ تازیانہ
لگتا ہے کہ محشر تک یہ دیوان رہے گا۔
ہم چاہیں یا نہ چاہیں پر کچھ نہیں کر سکتے
عمر بھر ہمارے سر پہ تُو سلطان رہے گا۔
تو اگر کہے ! تو ہو جاؤں گا فانی
پر یاد رکھو پھر بھی یہ داستا ن رہے گا۔
عبدالؔ کہ وقت ہے ابھی تو چھوڑ دے دنیا۔
ورنہ تیری پاک دامنی پہ بہتان رہے گا۔
Abdul wadood
جو تم چلے جاؤگے تو ارمان رہے گا
میں شب میں بُلاتا ہوں تجھے خواب میں اکثر
گر سامنے آؤ گے تو احسان رہے گا۔
جس شخص نے دیکھا ہے تجھے روبرو ہو کر
کرتا ہوں میں دعوہ کہ وہ حیران رہے گا۔
اجنبی بن کےجو تو سامنے سے گزرے گی
نہ میرا ہوش، نہ دھڑکن و نہ اوسان رہے گا۔
کب تک کرو گی تم یہ سزاۓ تازیانہ
لگتا ہے کہ محشر تک یہ دیوان رہے گا۔
ہم چاہیں یا نہ چاہیں پر کچھ نہیں کر سکتے
عمر بھر ہمارے سر پہ تُو سلطان رہے گا۔
تو اگر کہے ! تو ہو جاؤں گا فانی
پر یاد رکھو پھر بھی یہ داستا ن رہے گا۔
عبدالؔ کہ وقت ہے ابھی تو چھوڑ دے دنیا۔
ورنہ تیری پاک دامنی پہ بہتان رہے گا۔
Abdul wadood
رسمِ محبت نے ہمیں یہ صلہ دیا رسمِ محبت نے ہمیں یہ صلہ دی
سارے جہاں کو چھوڑکے، تنہابنا دی
ہم دیدہِ پرنم تھےمگر اشک بار نہیں
فقط بے رخی نے ا’سکی، ہم کو رلا دی
محفل میں ملی مجھ کو اور میں دیکھتا رہ
بس ا‘س کی اداؤں نے، دیوانہ بنا دی
زیاں کے خوف سے وہ راہِ وفا پہ آنہ سکی
محبت د یا رِ غم ہے، یہ بہانا بنا دی
اب تیری محبت کے سوا کام نہیں ہے
اِس دیوانگی نے مجھ کو نکما بنا دی
کہتا ہے کہ عبدالؔ، اب محبت نہیں کرنی
اب دردِ محبت نے سیانا بنا دی abdul wadood
سارے جہاں کو چھوڑکے، تنہابنا دی
ہم دیدہِ پرنم تھےمگر اشک بار نہیں
فقط بے رخی نے ا’سکی، ہم کو رلا دی
محفل میں ملی مجھ کو اور میں دیکھتا رہ
بس ا‘س کی اداؤں نے، دیوانہ بنا دی
زیاں کے خوف سے وہ راہِ وفا پہ آنہ سکی
محبت د یا رِ غم ہے، یہ بہانا بنا دی
اب تیری محبت کے سوا کام نہیں ہے
اِس دیوانگی نے مجھ کو نکما بنا دی
کہتا ہے کہ عبدالؔ، اب محبت نہیں کرنی
اب دردِ محبت نے سیانا بنا دی abdul wadood