میں نے لفظوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے۔
Poet: عبدالودود عبدالؔ By: عبدالودود عبدالؔ, swabi topiمیں نے لفظوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
سب کتابوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
بہت بیتاب ہو کے راتوں کو
چاند تاروں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
اُس کو پھولوں سے محبت تھی بہت
سب گلستانوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
خود کو تنہا کیا زمانے سے
سب ویرانوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
دیارِ غم میں میراحال ہوا ہے ایسے
دردِدل کی دھڑکنوں میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
اب تو مجھکو بھی بھروسا نہیں رہا خود پر
خود کی سانسوں میں اُس کو ڈھونڈہ ہے
تمام خوابوں کی بھی تعبیر ہوا کرتی ہے
فقط اسی لیے خوابِ یوسفی میں اُسکو ڈھونڈہ ہے
عبدلؔ تیرے جینے کا اب مقصد نہیں رہا
تو خود کو چھوڑ آیا ہے۔ جہاں جہاں پر اُسکو ڈھونڈہ ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






