Poetries by محمد اطہر طاہر
اک اجنبی دلربا ہوا مجھے چوم کر مجھے تھام کر
وہ اس ادا سے فدا ہوا
وہ اجنبی دلربا ہوا
میری رنجشیں میری شدتیں
اُسی ایک پل میں ہَوا ہُوئیں
میری تشنگی کو مٹا گیا
وہ اس ادا سے فدا ہوا
وہ اجنبی دلربا ہوا
اس کی نگاہِ لطف سے
یہ کیسا جادو بکھر گیا
میں گمنام سا شخص تھا
میں ہر زباں سے ادا ہوا
وہ اس ادا سے فدا ہوا
وہ اجنبی دلربا ہوا Athar Tahir
وہ اس ادا سے فدا ہوا
وہ اجنبی دلربا ہوا
میری رنجشیں میری شدتیں
اُسی ایک پل میں ہَوا ہُوئیں
میری تشنگی کو مٹا گیا
وہ اس ادا سے فدا ہوا
وہ اجنبی دلربا ہوا
اس کی نگاہِ لطف سے
یہ کیسا جادو بکھر گیا
میں گمنام سا شخص تھا
میں ہر زباں سے ادا ہوا
وہ اس ادا سے فدا ہوا
وہ اجنبی دلربا ہوا Athar Tahir
میں تیری محبت کو طلاق لکھ رہی ہوں ہر اک خواہش ہر تمنا کو خاک لکھ رہی ہوں
میں تیری محبت کو طلاق لکھ رہی ہوں
صدیوں کی بے معنی رفاقت کا جنازه نکال کر
میں ہوں باغی محبت سے بے باک لکھ رہی ہوں
محبت کے نام پر ہیں یہ نامحرموں کے دھوکے
میں نسل نو کے واسطے اسباق لکھ رہی ہیں
خوش رنگ تتلیاں بے بال و پر ہیں کیوں کر
کلی ہوتی ہے آخر کیوں خس و خاشاک لکھ رہی ہوں
عصمت جو بچ سکے نہ کچھ رہتا نہیں باقی
میں جھوٹی لذتوں کو ناپاک لکھ رہی ہوں
میری بہنوں بچ کے رہنا نہ زندہ لاش ہونا
یہ معاشرہ ہے کتنا سفاک لکھ رہی ہوں
نوٹ: یہ غزل بہنوں کیلئے مؤنث صیغہ میں لکھی گئی ہے جبکہ تخلیق محمد اطہر طاہر کی ہے۔ Athar Tahir
میں تیری محبت کو طلاق لکھ رہی ہوں
صدیوں کی بے معنی رفاقت کا جنازه نکال کر
میں ہوں باغی محبت سے بے باک لکھ رہی ہوں
محبت کے نام پر ہیں یہ نامحرموں کے دھوکے
میں نسل نو کے واسطے اسباق لکھ رہی ہیں
خوش رنگ تتلیاں بے بال و پر ہیں کیوں کر
کلی ہوتی ہے آخر کیوں خس و خاشاک لکھ رہی ہوں
عصمت جو بچ سکے نہ کچھ رہتا نہیں باقی
میں جھوٹی لذتوں کو ناپاک لکھ رہی ہوں
میری بہنوں بچ کے رہنا نہ زندہ لاش ہونا
یہ معاشرہ ہے کتنا سفاک لکھ رہی ہوں
نوٹ: یہ غزل بہنوں کیلئے مؤنث صیغہ میں لکھی گئی ہے جبکہ تخلیق محمد اطہر طاہر کی ہے۔ Athar Tahir
تم نے بھول جانے کا ہنر کہاں سے سیکھا ہے تم نے بھول جانے کا
ہنر کہاں سے سیکھا ہے
تلخ بھی بول لیتے ہو
ساتھ چھوڑ دیتے ہو
ذات توڑ کر میری
بات چھوڑ دیتے ہو،
ہم نے تو تمہاری چاہ میں
عشق کی اندھی راہ میں
ہر نسخہ آزمایا ہے
ضبط کر کےبھی دیکھا ہے
صبر کر کے بھی دیکھا ہے
اپنی ذات پر ہم نے
جبر کرکے بھی دیکھا ہے
میں نے عظیم اسموں کا
ذکر کر کے بھی دیکھا ہے
تم کو بھول جانے کی
کوئی تدبیر نہ کام آئی
ہر عزم و تمنا ہار گئی
ہر کاوش بیکار گئی Athar Tahir
ہنر کہاں سے سیکھا ہے
تلخ بھی بول لیتے ہو
ساتھ چھوڑ دیتے ہو
ذات توڑ کر میری
بات چھوڑ دیتے ہو،
ہم نے تو تمہاری چاہ میں
عشق کی اندھی راہ میں
ہر نسخہ آزمایا ہے
ضبط کر کےبھی دیکھا ہے
صبر کر کے بھی دیکھا ہے
اپنی ذات پر ہم نے
جبر کرکے بھی دیکھا ہے
میں نے عظیم اسموں کا
ذکر کر کے بھی دیکھا ہے
تم کو بھول جانے کی
کوئی تدبیر نہ کام آئی
ہر عزم و تمنا ہار گئی
ہر کاوش بیکار گئی Athar Tahir
اب وقت بہت ہے مختصر میرے محترم میرے معتبر،
تمہیں ہے پتا؟ کوئی ہے خبر؟
کہ سانسیں کتنی قلیل ہیں،
کہ وقت ہے کتنا مختصر؟
پتھرا گئے کبھی برس گئے،
تیری دید کو دیدے ترس گئے،
نہ اناؤں کی ہی نہ بقا رہی،
نہ خودی کو خود کی رہی خبر،
میرے محترم میرے معتبر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
اس مختصر سے وقت میں،
تو اپنی موج و مست میں،
میرا روم روم تیرے درد میں
میرا ہر لمحہ تیرا منتظر،
میرے محترم میرے معتبر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
میں نظم و شعر کا کیا کروں،
میں سخن و ہنر کا کیا کروں،
جب تم کو غرض نہ واسطہ
ہوئے بے قدر میرے نظم و شعر
میرے کم سخن میرے بے ہنر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
تیرے لوٹ آنے کی ہو خبر
میں شکستہ جاں تیری راہ پر
دیدہ و دل کو فرش کروں
میں جان و دِل کو کروں نذر
میرے محترم میرے معتبر
اب وقت بہت ہے مختصر
Athar Tahir
تمہیں ہے پتا؟ کوئی ہے خبر؟
کہ سانسیں کتنی قلیل ہیں،
کہ وقت ہے کتنا مختصر؟
پتھرا گئے کبھی برس گئے،
تیری دید کو دیدے ترس گئے،
نہ اناؤں کی ہی نہ بقا رہی،
نہ خودی کو خود کی رہی خبر،
میرے محترم میرے معتبر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
اس مختصر سے وقت میں،
تو اپنی موج و مست میں،
میرا روم روم تیرے درد میں
میرا ہر لمحہ تیرا منتظر،
میرے محترم میرے معتبر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
میں نظم و شعر کا کیا کروں،
میں سخن و ہنر کا کیا کروں،
جب تم کو غرض نہ واسطہ
ہوئے بے قدر میرے نظم و شعر
میرے کم سخن میرے بے ہنر،
اب وقت بہت ہے مختصر،
تیرے لوٹ آنے کی ہو خبر
میں شکستہ جاں تیری راہ پر
دیدہ و دل کو فرش کروں
میں جان و دِل کو کروں نذر
میرے محترم میرے معتبر
اب وقت بہت ہے مختصر
Athar Tahir
باشعور بیٹی میں دورِ جہالت کی
وہ چڑیا نہیں ہوں کہ
کہیں بھی کوئی بھی مجھ کو
یونہی قربان کر ڈالے
میں بیٹی محمدؐ کی
محافظ اپنی عصمت کی
میں جان دینا بھی جانتی ہوں
میں جان لینا بھی جانتی ہوں
اگر تو ابنِ آدم ہے
تو میں بنتِ محمد ہوں
اگر تو حاکم ہے مجھ پر
تو میں بھی تم پر رحمت ہوں
جہاں دینِ محمدؐ نے
مجھ پر گرہیں لگائی ہیں
وہاں باعزت جینے کو
مجھے سو حق بھی بخشے ہیں Athar Tahir
وہ چڑیا نہیں ہوں کہ
کہیں بھی کوئی بھی مجھ کو
یونہی قربان کر ڈالے
میں بیٹی محمدؐ کی
محافظ اپنی عصمت کی
میں جان دینا بھی جانتی ہوں
میں جان لینا بھی جانتی ہوں
اگر تو ابنِ آدم ہے
تو میں بنتِ محمد ہوں
اگر تو حاکم ہے مجھ پر
تو میں بھی تم پر رحمت ہوں
جہاں دینِ محمدؐ نے
مجھ پر گرہیں لگائی ہیں
وہاں باعزت جینے کو
مجھے سو حق بھی بخشے ہیں Athar Tahir
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں کسی کے خواب بکھر جائیں
کسی کی منزل کھو جائے
کوئی ہنس ہنس کے جیتا ہو
کوئی غم کے آنسو پیتا ہو
گمشده سے بہتر مل جائے
وقت جتنا بھی بدل جائے
جذبات کو بدل نہ پائے
یہ سب کتابی باتیں ہیں
وقت زخموں کا مرہم ہے
تا عمر رلانے والے بھی
کچھ درد ایسے ہوتے ہیں
تا حشر جگانے والے بھی
کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں
کبھی مندمل نہیں ہوتے
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں
قیامت تک نہیں بھرتے
ہمیشہ تازہ رہتے ہیں
کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں
جو مرہم سے نہیں بھرتے
نشتر سے شفا ہو جاتی ہے
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں
جو مرہم سے ہی لگتے ہیں
اور موت کی آخری ہچکی کا
سبب وہ زخم بنتے ہیں
وہ برزخ تک لے جاتے ہیں
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں Athar Tahir
کسی کی منزل کھو جائے
کوئی ہنس ہنس کے جیتا ہو
کوئی غم کے آنسو پیتا ہو
گمشده سے بہتر مل جائے
وقت جتنا بھی بدل جائے
جذبات کو بدل نہ پائے
یہ سب کتابی باتیں ہیں
وقت زخموں کا مرہم ہے
تا عمر رلانے والے بھی
کچھ درد ایسے ہوتے ہیں
تا حشر جگانے والے بھی
کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں
کبھی مندمل نہیں ہوتے
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں
قیامت تک نہیں بھرتے
ہمیشہ تازہ رہتے ہیں
کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں
جو مرہم سے نہیں بھرتے
نشتر سے شفا ہو جاتی ہے
اور کچھ ایسے ہوتے ہیں
جو مرہم سے ہی لگتے ہیں
اور موت کی آخری ہچکی کا
سبب وہ زخم بنتے ہیں
وہ برزخ تک لے جاتے ہیں
کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں Athar Tahir
مجھے تم چپ ہی رہنے دو مجھے تم چپ ہی رہنے دو
یہ تیرے حق میں بہتر ہے
میرا ہر بول خنجر ہے
میرا ہر لفظ نشتر ہے
میرے لہجے کی تلخی سے
تم بچ نکلو تو بہتر ہے
اب ! کہ اتنازہر ہے مجھ میں
میں دنیا پھونک دوں ساری
تیرے ہجر نے جاناں
مجھے سوغات بخشی ہے
اُجلے روشن دن کے بدلے
زہریلی رات بخشی ہے
عبرتِ نگاہ بخشی
ہستیءِ فنا بخشی
چھین کر خوش خلقی
اور سلیقہءِ زندگی
بدمزاجی سونپ دی
اب کہ...!
اِس بدمزاجی سے
اُس شگفتہ مزاجی تک
صد ہزار سالوں کا
فاصلہ ہے آسیبوں کا
عمر کٹ تو سکتی ہے
فاصلہ نہیں کٹتا
تم ہوکہ مل نہیں سکتے
مزاج کہ بدل نہیں سکتا
مجھے تم چپ ہی رہنے دو Athar Tahir
یہ تیرے حق میں بہتر ہے
میرا ہر بول خنجر ہے
میرا ہر لفظ نشتر ہے
میرے لہجے کی تلخی سے
تم بچ نکلو تو بہتر ہے
اب ! کہ اتنازہر ہے مجھ میں
میں دنیا پھونک دوں ساری
تیرے ہجر نے جاناں
مجھے سوغات بخشی ہے
اُجلے روشن دن کے بدلے
زہریلی رات بخشی ہے
عبرتِ نگاہ بخشی
ہستیءِ فنا بخشی
چھین کر خوش خلقی
اور سلیقہءِ زندگی
بدمزاجی سونپ دی
اب کہ...!
اِس بدمزاجی سے
اُس شگفتہ مزاجی تک
صد ہزار سالوں کا
فاصلہ ہے آسیبوں کا
عمر کٹ تو سکتی ہے
فاصلہ نہیں کٹتا
تم ہوکہ مل نہیں سکتے
مزاج کہ بدل نہیں سکتا
مجھے تم چپ ہی رہنے دو Athar Tahir
ہم اتنے سستے نہیں بتایا تو تھا کہ ہم اتنے سستے نہیں
جھوٹے دلوں میں ہم بستے نہیں
من ہُوا آگئے من ہُوا چل دیے
ہم گلیاں نہیں ہم رستے نہیں
ہماری فطرت میں شامل ایثار ہے
کسی کو اپنا بنا کے ہم ڈستے نہیں
لٹا دیں بہاریں زندگی بھر کی ہم
پھول پتیاں نہیں گلدستے نہیں
بے رُخی تمہاری مبارک تمہیں
ہماری خودی کے دام سستے نہیں
تیری منت سماجت کریں کس طرح
جگر خستے نہیں انا شکستے نہیں Athar Tahir
جھوٹے دلوں میں ہم بستے نہیں
من ہُوا آگئے من ہُوا چل دیے
ہم گلیاں نہیں ہم رستے نہیں
ہماری فطرت میں شامل ایثار ہے
کسی کو اپنا بنا کے ہم ڈستے نہیں
لٹا دیں بہاریں زندگی بھر کی ہم
پھول پتیاں نہیں گلدستے نہیں
بے رُخی تمہاری مبارک تمہیں
ہماری خودی کے دام سستے نہیں
تیری منت سماجت کریں کس طرح
جگر خستے نہیں انا شکستے نہیں Athar Tahir
تضادِ محبت عجیب اک فرق تھا
ہم دونوں کی محبت میں
مجھے اپنی زندگی کی
تمام ضروریات سے پہلے
جسم و جان سے پہلے
اپنی ہر سانس سے پہلے
فقط اس کی ضرورت تھی
اور اس کے برعکس
اس کو تمام ضروریات
آسائیشات و تعیشات
معاشرے میں مقامِ بالا
اس پر بھی کچھ شرائط
اس سے بھی بہت بعد
شاید "میں"
شاید یہ محبت تھی
شاید یہ اک سودا تھا Athar Tahir
ہم دونوں کی محبت میں
مجھے اپنی زندگی کی
تمام ضروریات سے پہلے
جسم و جان سے پہلے
اپنی ہر سانس سے پہلے
فقط اس کی ضرورت تھی
اور اس کے برعکس
اس کو تمام ضروریات
آسائیشات و تعیشات
معاشرے میں مقامِ بالا
اس پر بھی کچھ شرائط
اس سے بھی بہت بعد
شاید "میں"
شاید یہ محبت تھی
شاید یہ اک سودا تھا Athar Tahir